Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

یہ ماہ اور سال




یہ  ماہ  اور  سال  جو مری  عمر  پر لگے ہیں


پلٹ کے دیکھوں تو اب بہت مختصر لگے  ہیں




شجر  بنایا  عجیب  اک  شاعری  سے  میں نے

پھراس کی شاخیں کہ جن پہ لعل وگہرلگے ہیں




سگِ   وفادار   اور   درویش   اس   کا   مالک

ہمیں  تو  اس  شہر  میں  یہی  معتبر  لگے ہیں




بھرم  فقیری   کا   آخر  اظہار   کھُل   گیا  ہے

ترے  مکاں میں  سنا  ہے دیوار و در لگے ہیں


3 comments:

Anonymous said...

changi shairi eh tuhadi baba jee

Anonymous said...

This maqta might shake those who can thin and feel

Wasslam
Arshad

Anonymous said...

کیا عمدہ شاعری ہے جناب ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com